مواد پر جائیں مواد پر جائیں
۲۰۲۶ کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم اصول
آرکائیو پر واپس

۲۰۲۶ کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم اصول

نو بال اور وائیڈ کرکٹ میں اضافی رنز دینے والی گیندیں ہیں، مگر دونوں کے قوانین، امپائر کے اشارے اور اگلی گیند پر اثر مختلف ہوتے ہیں۔ نو بال عموماً غلط فٹ پوزیشن، خطرناک باؤنس، فرنٹ فٹ کی خلاف ورزی یا ک...

28 اکتوبر، 2026

۲۰۲۶ کرکٹ میں نو بال اور وائیڈ: ۳ اہم اصول

نو بال اور وائیڈ کرکٹ میں اضافی رنز دینے والی گیندیں ہیں، مگر دونوں کے قوانین، امپائر کے اشارے اور اگلی گیند پر اثر مختلف ہوتے ہیں۔ نو بال عموماً غلط فٹ پوزیشن، خطرناک باؤنس، فرنٹ فٹ کی خلاف ورزی یا کمر سے اونچی فل ٹاس پر دی جاتی ہے، جبکہ وائیڈ گیند بیٹر کی عام پہنچ سے باہر گزرنے پر ہوتی ہے۔ ہر نو بال یا وائیڈ پر ٹیم کو کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، اور یہ گیند قانونی اوور کا حصہ نہیں بنتی۔ نو بال کے بعد محدود اوورز کے مقابلوں میں اکثر فری ہٹ ملتی ہے، وائیڈ پر نہیں۔ آئی سی سی اور ایم سی سی کے قوانین اس فرق کی بنیادی بنیاد ہیں۔ اسکور دیکھتے وقت پہلے گیند کی قانونی حیثیت، پھر رنز اور آخر میں فری ہٹ کا امکان چیک کریں۔

Pakistani cricket umpire signaling no ball during a tense stadium match under bright floodlights

اگر آپ اس موضوع کو میچ کے اسکور، بیٹنگ حکمت عملی اور باؤلنگ کے زاویے سے سمجھنا چاہتے ہیں تو میچ ڈے کرکٹ کی روزانہ کرکٹ بصیرت بھی مددگار ہے۔

مزید جانیں

نو بال اور وائیڈ کے ۳ اصول ایک نظر میں

۱. نو بال: کم از کم ایک اضافی رن، غیر قانونی گیند، اور محدود اوورز میں عموماً فری ہٹ۔
۲. وائیڈ: کم از کم ایک اضافی رن، غیر قانونی گیند، مگر فری ہٹ نہیں۔
۳. اضافی رنز: باؤنڈری، بائی، لیگ بائی یا رن آؤٹ کی صورت میں مجموعہ بدل سکتا ہے۔

نو بال اور وائیڈ کو صرف خراب گیند سمجھنا ادھوری بات ہے۔ یہ دونوں گیندیں میچ کی رفتار، ہدف، باؤلر کے اوور اور بیٹر کے خطرے کو بدل دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر ٹی ٹوئنٹی میں ایک نو بال کے بعد فری ہٹ ملنے سے بیٹر کو جارحانہ شاٹ کھیلنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ وائیڈ باؤلر پر دباؤ بڑھاتی ہے کیونکہ اوور دوبارہ جاری رہتا ہے۔ ایم سی سی کے کرکٹ قوانین کے مطابق نو بال اور وائیڈ دونوں غیر قانونی ڈیلیوری ہیں، اس لیے چھ قانونی گیندیں مکمل کرنے کے لیے اضافی گیند کرانا ضروری ہوتا ہے۔

ایک اہم عملی نکتہ یہ ہے کہ نو بال یا وائیڈ کا مجموعی اسکور ہمیشہ ایک نہیں رہتا۔ اگر نو بال پر بیٹر نے چھکا مار دیا تو عام طور پر ٹیم کو سات رنز ملتے ہیں؛ اگر وائیڈ گیند باؤنڈری تک چلی جائے تو پانچ وائیڈ رنز درج ہو سکتے ہیں۔ رن آؤٹ، بائی اور لیگ بائی کے امتزاج میں اسکورنگ پیچیدہ ہو سکتی ہے، اس لیے اسکور بورڈ کی تقسیم دیکھیں، صرف مجموعی رنز نہیں۔ کرکٹ اسکورنگ کی بنیادی اصطلاحات

نو بال کے اہم اشارے

  • امپائر عموماً ایک بازو کو افقی انداز میں پھیلا کر نو بال کا اشارہ دیتا ہے۔
  • فرنٹ فٹ کریز سے آگے پڑنے پر نو بال ہو سکتی ہے۔
  • کمر سے اونچی فل ٹاس محدود حالات میں نو بال بن سکتی ہے۔
  • نو بال پر وکٹ گرنے کے باوجود بعض آؤٹ قابل قبول نہیں ہوتے۔

وائیڈ کے اہم اشارے

  • امپائر دونوں بازو کندھوں کی سطح پر پھیلاتا ہے۔
  • گیند بیٹر کی عام پہنچ سے باہر ہو تو وائیڈ کا امکان ہوتا ہے۔
  • بیٹر گیند کو چھو لے تو عموماً وائیڈ ختم ہو جاتی ہے، مگر دیگر قوانین لاگو ہو سکتے ہیں۔
  • وائیڈ پر وکٹ گر سکتی ہے، خاص طور پر اسٹمپنگ یا رن آؤٹ۔

نمبر ۱: نو بال — سب سے اہم اصول

نو بال سب سے زیادہ اثر رکھنے والی غیر قانونی گیند ہے کیونکہ یہ اضافی رن کے ساتھ بیٹر کو بعض فارمیٹس میں فری ہٹ بھی دیتی ہے۔ فرنٹ فٹ نو بال میں باؤلر کا اگلا پاؤں پاپنگ کریز کے متعلقہ معیار سے تجاوز کرتا ہے؛ یہ فیصلہ ٹی وی امپائر، فرنٹ فٹ ٹیکنالوجی یا آن فیلڈ امپائر کے مشاہدے سے ہو سکتا ہے۔ آئی سی سی کے بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال مقابلے کے ضابطے کے مطابق بدل سکتا ہے، اس لیے ہر ٹورنامنٹ کے کھیلنے کی شرائط اہم ہیں۔

نو بال پر ایک بنیادی رن بیٹر کے اسکور میں نہیں بلکہ نو بال کے اضافی رنز میں جاتا ہے۔ گیند بیٹر کے بلے سے لگ کر باؤنڈری تک پہنچے تو بیٹنگ رنز اور نو بال رن الگ حساب میں شامل ہوتے ہیں۔ اگر گیند بیٹر کے بلے سے نہ لگے اور باؤنڈری پار کرے تو اضافی رنز کی قسم مختلف ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکور کارڈ میں “نو بال” اور “باؤنڈری” کو ایک ہی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔

فری ہٹ ہر نو بال کے بعد لازمی طور پر ایک ہی انداز میں نہیں لکھی جاتی؛ محدود اوورز کے کھیل کی مخصوص شرائط فیصلہ کرتی ہیں کہ کون سی نو بال فری ہٹ پیدا کرے گی۔ ٹیسٹ کرکٹ، ایک روزہ کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں اس معاملے کی عملی تفصیل مختلف ہو سکتی ہے۔ میچ سے پہلے آئی سی سی کے کھیلنے کی شرائط دیکھنا سب سے محفوظ طریقہ ہے۔

Close view of a cricket pitch showing popping crease, bowling crease, and bowler’s front foot

نو بال پر کون سی وکٹیں برقرار رہتی ہیں؟

نو بال پر بیٹر کا کیچ، بولڈ، ایل بی ڈبلیو اور عام اسٹمپنگ عموماً آؤٹ نہیں بنتے، لیکن رن آؤٹ، ہٹ وکٹ، ہینڈلڈ دی بال کے مخصوص حالات اور فیلڈنگ سے متعلق کچھ آؤٹ ممکن رہتے ہیں۔ قانون کی باریکی یہاں اہم ہے؛ مثال کے طور پر بیٹر نو بال کے بعد رن لینے کی کوشش کرے اور کریز سے باہر ہو تو رن آؤٹ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے نو بال کو “وکٹ ناممکن” کہنا غلط ہے۔

نو بال کے بعد بیٹر کو جارحانہ شاٹ کھیلنے کا فائدہ ملتا ہے، مگر فیلڈنگ ٹیم مکمل طور پر بے بس نہیں ہوتی۔ کپتان ڈیپ فیلڈرز، باؤنڈری لائن اور باؤلر کی رفتار کو دیکھ کر حکمت عملی بدل سکتا ہے۔ اسپنر کے خلاف فری ہٹ پر بیٹر عموماً لانگ آن یا مڈ وکٹ کی سمت حملہ کرتا ہے، جبکہ تیز باؤلر یارکر یا سست گیند سے خطرہ کم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی باؤلنگ حکمت عملی

ایک کم زیر بحث نکتہ یہ ہے کہ نو بال کے بعد ہونے والے رنز کا تعلق صرف بیٹر کی شاٹ سے نہیں ہوتا۔ بائی، لیگ بائی یا اوور تھرو بھی مجموعے کو بڑھا سکتے ہیں، مگر نو بال کا بنیادی رن برقرار رہتا ہے۔ اس لیے لائیو اسکور میں “کل اضافی رنز” اور “بیٹر کے رنز” الگ دیکھیں۔ میچ ڈے کرکٹ پر میچ جائزہ پڑھتے وقت یہ فرق ہدف کے دباؤ کو سمجھنے میں خاصا مفید رہتا ہے۔

مزید عملی مثالیں دیکھنے کا بہتر وقت وہ ہے جب اسکور کارڈ میں نو بال، بائی اور لیگ بائی الگ دکھائی دیں۔

مزید جانیں

نمبر ۲: وائیڈ — بیٹر کی پہنچ سے باہر گیند

وائیڈ وہ قانونی خلاف ورزی ہے جس میں گیند بیٹر کی عام پہنچ سے اتنی دور ہو کہ وہ معمول کے شاٹ سے اسے کھیل نہ سکے؛ اس پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ وائیڈ کا فیصلہ بیٹر کے مقام، قد، شاٹ کی حرکت، گیند کی رفتار اور کریز سے فاصلے کے مطابق بدل سکتا ہے۔ اس لیے ایک ہی لائن کی گیند دائیں ہاتھ اور بائیں ہاتھ کے بیٹر کے لیے مختلف فیصلہ پیدا کر سکتی ہے۔

وائیڈ کی حد ہر جگہ ایک سخت سفید لکیر نہیں۔ کرکٹ کے قوانین امپائر کو حالات دیکھنے کی ذمہ داری دیتے ہیں، جبکہ بعض ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں وائیڈ لائن کے لیے اضافی نشان استعمال ہوتے ہیں۔ اگر بیٹر آف سائیڈ کی طرف بہت دور چلا جائے تو امپائر گیند کی نئی پوزیشن سے فیصلہ کر سکتا ہے؛ بیٹر کا حرکت کرنا وائیڈ کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔ یہ باریک فرق شائقین اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، مگر باؤلر کے منصوبے کے لیے بہت اہم ہے۔

وائیڈ پر گیند بیٹر یا وکٹ کیپر سے دور ہو کر باؤنڈری پار کرے تو پانچ وائیڈ رنز مل سکتے ہیں۔ اگر وکٹ کیپر گیند روک لے اور بیٹر رن لے تو وائیڈ کے ساتھ وہ رن بھی شامل ہوتا ہے، لیکن اسکورنگ کا درست خانہ مقابلے کے قوانین کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔ وائیڈ فری ہٹ نہیں دیتی، مگر مسلسل وائیڈز باؤلر کے اوور کو لمبا اور فیلڈنگ ٹیم کے دباؤ کو زیادہ کر دیتی ہیں۔

وائیڈ اور نو بال میں بنیادی فرق کیا ہے؟

نو بال باؤلر کی ایک مخصوص قانونی خلاف ورزی، جیسے فرنٹ فٹ تجاوز یا خطرناک اونچی گیند، سے جڑی ہوتی ہے؛ وائیڈ گیند کی چوڑائی اور بیٹر کی عام پہنچ سے متعلق ہے۔ دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن اور اضافی گیند ملتی ہے، مگر محدود اوورز کے زیادہ تر فارمیٹس میں فری ہٹ صرف متعلقہ نو بال کے بعد آتی ہے۔ یہی فرق اسکور اور حکمت عملی دونوں بدلتا ہے۔

خصوصیت نو بال وائیڈ
بنیادی وجہ فٹ، اونچائی یا باؤلنگ قانون کی خلاف ورزی بیٹر کی پہنچ سے باہر گیند
کم از کم اضافی رن ایک ایک
قانونی گیند نہیں نہیں
فری ہٹ مخصوص محدود اوورز کی شرائط میں عموماً ہاں نہیں
عام امپائر اشارہ ایک بازو افقی دونوں بازو افقی
عام اضافی خطرہ فری ہٹ پر بڑا شاٹ اضافی رنز اور لمبا اوور

وائیڈ پر بیٹر کے شاٹ کی کوشش بھی فیصلہ بدل سکتی ہے۔ اگر بیٹر گیند کو چھو لے تو امپائر عام طور پر وائیڈ نہیں دیتا، چاہے گیند مشکل مقام پر ہو۔ اگر گیند بیٹر کے جسم یا کپڑوں سے ٹکرائے تو بائی، لیگ بائی یا دیگر قوانین کا اطلاق ممکن ہے۔ اس لیے صرف گیند کی سمت دیکھ کر فیصلہ کرنا کافی نہیں؛ رابطہ، بیٹر کی حرکت اور رن کا نتیجہ بھی دیکھنا ضروری ہے۔

Wide delivery passing outside a right-handed batter while the wicketkeeper reaches across the crease

نمبر ۳: اسکورنگ کی بہترین سمجھ — رنز کیسے گنے جائیں؟

اسکورنگ کے لیے سب سے درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے اضافی رن کی قسم طے کریں، پھر گیند سے حاصل ہونے والے باقی رنز شامل کریں۔ ایک وائیڈ جو وکٹ کیپر کے پیچھے چار باؤنڈری رنز تک جائے، عموماً پانچ وائیڈز بناتی ہے؛ ایک نو بال جس پر بیٹر نے چار رنز بنائے، عام طور پر پانچ مجموعی رنز پیدا کرتی ہے۔ تاہم بائی، لیگ بائی، اوور تھرو اور رن آؤٹ کی صورت میں اسکور کارڈ کی تفصیل ضرور دیکھنی چاہیے۔

مثالیں:

۱. نو بال + بیٹر کا چار: ایک نو بال رن اور چار بیٹنگ رنز، کل پانچ۔
۲. نو بال + چھکا: ایک اضافی نو بال رن اور چھ بیٹنگ رنز، کل سات۔
۳. وائیڈ + وکٹ کیپر کے پیچھے باؤنڈری: ایک وائیڈ اور چار باؤنڈری رنز، کل پانچ وائیڈز۔
۴. وائیڈ + دو مکمل رنز: ایک وائیڈ کے ساتھ دو رنز، مجموعہ تین، اگر رن کی صورت حال قانون کے مطابق ہو۔
۵. نو بال + بائی: نو بال کا ایک رن برقرار، باقی رنز بائی کے طور پر درج ہو سکتے ہیں۔

اسکورر کے لیے ایک اہم عملی اصول یہ ہے کہ نو بال یا وائیڈ کو قانونی گیند نہ شمار کیا جائے۔ اگر اوور میں پانچ قانونی گیندیں اور ایک وائیڈ ہوئی ہے تو اوور ابھی مکمل نہیں ہوا؛ ایک مزید قانونی گیند درکار ہے۔ اگر دو نو بال اور چار قانونی گیندیں ہوئیں تو باؤلر نے چھ ڈیلیوری کرائی ہیں، مگر قانونی گیندیں صرف چار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میچ کی رفتار کا اندازہ گیندوں کی تعداد سے نہیں، قانونی گیندوں سے لگایا جاتا ہے۔

کرکٹ اسکور کارڈ پڑھنے کا مکمل طریقہ

اعداد کے لحاظ سے ایک اضافی رن معمولی دکھائی دے سکتا ہے، مگر ٹی ٹوئنٹی میں ۲۰ اوورز اور محدود مواقع کی وجہ سے اس کی قدر زیادہ ہے۔ ۲۰۲۶ کے ٹی ٹوئنٹی مقابلے میں ایک وائیڈ نہ صرف ایک رن دیتی ہے بلکہ باؤلر کو اسی اوور میں ایک اضافی قانونی گیند بھی کرنی پڑتی ہے؛ اس اضافی گیند پر چھکا، سنگل یا وکٹ میچ کا رخ بدل سکتی ہے۔ یہ وہ عملی فائدہ ہے جو صرف “وائیڈ ایک رن ہے” کہنے سے واضح نہیں ہوتا۔

اب اسکور بورڈ پر اضافی رنز کی تقسیم پڑھنے کی مشق کریں، کیونکہ مجموعی ہدف اکثر اسی چھوٹی تفصیل سے بدلتا ہے۔

مزید جانیں

یہ ۳ اصول کیسے ترتیب پاتے ہیں؟

اس درجہ بندی میں “بہتر” سے مراد زیادہ اہم اور زیادہ اثر رکھنے والا قانون ہے، نہ کہ کوئی ٹیم یا کھلاڑی۔ نو بال کو پہلے نمبر پر اس لیے رکھا جا سکتا ہے کہ اس کے ساتھ اضافی رن، غیر قانونی گیند اور بعض فارمیٹس میں فری ہٹ تین الگ اثر پیدا کرتے ہیں۔ وائیڈ دوسرے نمبر پر ہے کیونکہ یہ ہدف اور اوور کی لمبائی بدلتی ہے، مگر عام طور پر فری ہٹ نہیں دیتی۔ اسکورنگ کا اصول تیسرے نمبر پر ہے کیونکہ وہ دونوں غلطیوں کے حقیقی مجموعی اثر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

درجہ بندی کے معیار:

  • قانونی اثر: ۳۰ فیصد — گیند دوبارہ کرانی ہے یا نہیں۔
  • اسکورنگ اثر: ۲۵ فیصد — اضافی رنز کی کم از کم مقدار اور باؤنڈری کا امکان۔
  • حکمت عملی اثر: ۲۵ فیصد — فری ہٹ، فیلڈ اور باؤلر کے منصوبے پر اثر۔
  • غلط فہمی کا خطرہ: ۲۰ فیصد — شائقین اور نئے اسکوررز کے لیے الجھن کی سطح۔

ایم سی سی کے قانون ۲۱ میں نو بال اور قانون ۲۲ میں وائیڈ کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ مریم ویبسٹر کی کرکٹ اصطلاحات اور آئی سی سی کے ضابطے بھی بنیادی تعریفوں اور عالمی مقابلوں کی شرائط سمجھنے کے لیے مفید ہیں۔ ایم سی سی کی قانونی زبان کا خلاصہ یہ ہے: “غیر قانونی گیند اوور کی قانونی گیندوں میں شمار نہیں ہوتی۔” عملی طور پر یہی ایک جملہ نو بال اور وائیڈ کے سب سے اہم نتیجے کو واضح کرتا ہے۔

ایک اضافی تقابلی نکتہ یہ ہے کہ بیٹر کی حرکت دونوں فیصلوں میں اہم ہے، مگر نو بال کے فرنٹ فٹ فیصلے میں بیٹر کی حرکت عموماً متعلقہ نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس وائیڈ میں بیٹر کا کریز سے باہر جانا گیند کی قابل قبول پہنچ بدل سکتا ہے۔ اس فرق کو جاننے سے امپائر کے فیصلے کو جذبات کے بجائے قانون کے مطابق پڑھنا آسان ہو جاتا ہے۔

آپ کو کس اصول پر سب سے پہلے توجہ دینی چاہیے؟

اگر آپ نئے شائق ہیں تو پہلے نو بال اور وائیڈ کی بنیادی علامتیں یاد کریں، پھر اسکورنگ کی تقسیم دیکھیں۔ اگر آپ بیٹر ہیں تو نو بال کے بعد فری ہٹ کی شرائط، وائیڈ کی ممکنہ سمت اور فیلڈ کی ترتیب سمجھیں۔ اگر آپ باؤلر ہیں تو فرنٹ فٹ، ریلیز پوائنٹ، آف سائیڈ کی چوڑائی اور رفتار پر قابو کو ترجیح دیں۔

حالات کے مطابق انتخاب یوں کریں:

  • میچ دیکھنے والے شائق: امپائر کا اشارہ اور اضافی رنز کا خانہ چیک کریں۔
  • نیا اسکورر: ہر غیر قانونی گیند کے بعد قانونی گیندوں کی گنتی دوبارہ کریں۔
  • بیٹر: نو بال پر فری ہٹ کی صورت میں شاٹ سے پہلے فیلڈ دیکھیں۔
  • فاسٹ باؤلر: فرنٹ فٹ کے لیے رن اپ کا آخری قدم مستقل رکھیں۔
  • اسپنر: وائیڈ سے بچنے کے لیے بیٹر کی پوزیشن اور کریز کا زاویہ نوٹ کریں۔

میچ ڈے کرکٹ پر PSL، بین الاقوامی کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی کے میچ جائزوں میں اضافی رنز کو الگ دیکھنے سے آپ کو باؤلنگ کی اصل قیمت سمجھ آتی ہے۔ ایک باؤلر نے اگر ۲ اوورز میں ۱۸ رنز دیے مگر ان میں ۵ وائیڈ اور ۲ نو بال شامل تھیں تو اس کی قانونی گیندوں کی کارکردگی الگ انداز سے جانچنی ہوگی۔ صرف اکانومی ریٹ فیصلہ کن نہیں؛ اضافی رنز، فری ہٹ اور دباؤ کے لمحات بھی شامل کریں۔

یہی وجہ ہے کہ نو بال اور وائیڈ کو معمولی اسکورنگ غلطی نہیں سمجھنا چاہیے۔ محدود اوورز میں ایک اضافی گیند باؤنڈری، وکٹ یا ہدف کے فرق میں بدل سکتی ہے۔

مزید جانیں

عام سوالات

سوال: کرکٹ میں نو بال کیا ہوتی ہے؟

جواب: نو بال باؤلر کی ایسی غیر قانونی گیند ہے جو باؤلنگ کے مقررہ قانون کی خلاف ورزی کرے اور اس پر کم از کم ایک اضافی رن ملے۔ فرنٹ فٹ کا کریز سے آگے نکلنا، کمر سے اونچی فل ٹاس اور بعض خطرناک باؤنس اس کی عام مثالیں ہیں۔ نو بال قانونی اوور کی گیند نہیں گنی جاتی، اس لیے اوور مکمل کرنے کے لیے اضافی گیند کرانی پڑتی ہے۔ محدود اوورز کے کئی فارمیٹس میں متعلقہ نو بال کے بعد بیٹر کو فری ہٹ بھی ملتی ہے، مگر مقابلے کی کھیلنے کی شرائط ضرور دیکھیں۔

سوال: کرکٹ میں وائیڈ کیسے پہچانی جاتی ہے؟

جواب: وائیڈ وہ گیند ہے جو بیٹر کی عام پہنچ سے باہر گزرے اور بیٹر اسے معمول کے شاٹ سے نہ کھیل سکے۔ امپائر بیٹر کی پوزیشن، قد، حرکت، گیند کی لائن اور رفتار کو ملا کر فیصلہ کرتا ہے۔ وائیڈ پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے اور گیند دوبارہ کرائی جاتی ہے۔ اگر بیٹر گیند کو چھو لے یا خود بہت دور حرکت کر چکا ہو تو وائیڈ کا فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے، اس لیے صرف گیند کی سمت دیکھنا کافی نہیں۔

سوال: نو بال اور وائیڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: نو بال باؤلنگ کے فٹ، اونچائی یا حفاظتی قانون کی خلاف ورزی ہے، جبکہ وائیڈ بیٹر کی عام پہنچ سے باہر گیند کو کہتے ہیں۔ دونوں غیر قانونی گیندیں ہیں اور دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ محدود اوورز کے کھیل میں نو بال کے بعد فری ہٹ مل سکتی ہے، مگر وائیڈ کے بعد نہیں۔ نو بال پر بعض آؤٹ بھی قابل قبول نہیں ہوتے، جبکہ وائیڈ پر رن آؤٹ یا اسٹمپنگ ممکن ہو سکتی ہے۔

سوال: نو بال کے بعد فری ہٹ کب ملتی ہے؟

جواب: فری ہٹ عموماً محدود اوورز کے مقابلوں میں ایسی نو بال کے بعد ملتی ہے جسے متعلقہ کھیلنے کی شرائط فری ہٹ والی نو بال قرار دیتی ہیں۔ ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی شرائط ایک جیسی نہیں ہوتیں، اس لیے ٹورنامنٹ کے ضابطے کو ترجیح دیں۔ فری ہٹ والی گیند پر بیٹر کو عام طور پر بولڈ، ایل بی ڈبلیو یا کیچ سے آؤٹ نہیں کیا جا سکتا، مگر رن آؤٹ، ہٹ وکٹ اور کچھ دیگر آؤٹ ممکن رہتے ہیں۔ امپائر یا اسکور بورڈ کا اشارہ ضرور دیکھیں۔

سوال: نو بال یا وائیڈ پر کتنے رنز ملتے ہیں؟

جواب: نو بال اور وائیڈ دونوں پر کم از کم ایک اضافی رن ملتا ہے، مگر باؤنڈری یا دوڑ کے بعد مجموعہ بڑھ سکتا ہے۔ نو بال پر بیٹر کا چھکا لگے تو عموماً کل سات رنز بنتے ہیں، جبکہ وائیڈ گیند وکٹ کیپر کے پیچھے باؤنڈری تک جائے تو پانچ وائیڈز درج ہو سکتی ہیں۔ بائی، لیگ بائی اور اوور تھرو کے حالات میں رنز الگ خانوں میں لکھے جا سکتے ہیں۔ درست نتیجہ جاننے کے لیے لائیو اسکور کے اضافی رنز اور بیٹر کے رنز دونوں دیکھیں۔

سوال: وائیڈ یا نو بال اسکور کارڈ میں کیوں اہم ہیں؟

جواب: یہ دونوں اسکور کارڈ میں اس لیے اہم ہیں کیونکہ رنز کے ساتھ قانونی گیندوں کی تعداد اور اوور کی لمبائی بھی بدلتی ہے۔ چھ قانونی گیندوں کے بجائے پانچ قانونی گیندیں اور ایک وائیڈ ہوں تو باؤلر کو ایک مزید قانونی گیند کرانی ہوگی۔ نو بال فری ہٹ بھی پیدا کر سکتی ہے، جس سے باؤنڈری یا وکٹ کا امکان بدل جاتا ہے۔ باؤلر کی کارکردگی جانچتے وقت کل رنز کے ساتھ وائیڈ، نو بال اور قانونی گیندوں کی تعداد الگ نوٹ کریں۔

Cricket scoreboard displaying wides, no-balls, extras, and legal deliveries during a night match

اگر قانون کی کسی خاص مثال، اسکور کارڈ یا باؤلنگ حکمت عملی پر مزید وضاحت چاہیے تو میچ ڈے کرکٹ کے متعلقہ کرکٹ گائیڈز دیکھیں۔

مزید جانیں

—

میچ ڈے کرکٹ · The Archive

متعلقہ مضامین